لکھنؤ،یکم دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سزا یافتہ قیدیوں کا پیرول آگے نہیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیل محکمہ کو یہ یقینی کرنے کے لیے حکم جاری کیا گیا ہے کہ سبھی جرائم پیشے جیل لوٹ آئیں۔ دھیان رہے کہ کورونا کے مدنظر اس سال مئی میں ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر 2256 قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
کورونا وبا کو دیکھتے ہوئے جیلوں میں قیدیوں کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔ ان میں وہ جرائم پیشے تھے جنھیں سات سال سے کم کی سزا ملی تھی۔ اتر پردیش کے ریاستی جیل محکمہ نے کہا کہ 2256 قیدیوں میں سے چار کی موت ہو گئی ہے، 136 کو رہا کر دیا گیا ہے، کیونکہ ان کی جیل کی مدت پوری ہو گئی تھی، اور 56 دیگر کو دوسرے معاملوں میں جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن 2063 قیدی اب بھی باہر ہیں۔
اتر پردیش کے جیل ڈائریکٹر جنرل آنند کمار نے کہا کہ ’’ہم 693 قصورواروں کو جیل میں واپس لے آئے جب کہ دیگر کو اب بھی واپس آنا ہے۔ ان کے لیے ایک نوٹیفکیشن ضلع جیلوں اور ایس پی کو بھیجا گیا ہے۔‘‘ اس درمیان 15 قیدیوں میں سے آٹھ، جو ریاستی حکومت کے حکم پر پیلی بھیت ضلع جیل سے 29 اپریل کو پیرول پر رہا ہوئے تھے، لاپتہ ہو گئے ہیں اور جیل نہیں لوٹے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعہ بھیجے گئے ایک خط کے بعد پولس سپرنٹنڈنٹ نے اب ان قیدیوں کا پتہ لگانے اور انھیں جیل افسران کے سامنے سرینڈر کرنے کے لیے سبھی ایس ایچ او کو حکم جاری کیا ہے۔ قیدیوں کی رہائی کے بعد سے پیرول مدت (آٹھ ہفتہ) کو تین بار بڑھایا گیا تھا۔
بشکریہ: قومی آواز